جموں، 13؍مئی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سینئرایکزیکیوٹیو ممبر پروفیسر بھیم سنگھ نے صدرجمہوریہ ،وزیراعظم اور ان کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ہندستانی الیکٹرونک میڈیا کو مشورہ دیں کہ اس طرح کی کوئی اشتعال انگیز اسٹوری نہ دکھائیں جس سے معاشرہ میں انتشار پیدا ہو پرامن بقائے باہمی کو نقصان پہنچے۔پروفیسربھیم سنگھ نے کہا کہ آج ایک چینل (شاید آج تک) پر ایک اسٹوری میں ملٹری یونیفارم میں بندوق کے ساتھ ایک داڑھی والے آدمی کو دکھایا جارہا ہے جو کشمیر کے حریت لیڈروں کو وارننگ دے رہا ہے کہ کشمیر میں شریعت (اسلامی قوانین) کی مخالفت نہ کریں ۔ انہوں نے کہاکہ یہ اسٹوری مکمل طورپر منصوبہ بند محسوس ہورہی ہے کیونکہ ہونٹ کا چلنا اور الفاظ میل نہیں کھاتے۔ایسا لگتا ہے کہ جیسے اس اسٹور ی میں کسی دوسرے کے منہ سے اپنے الفاظ کہلوائے جارہے ہیں اور یہ ریکارڈیڈاسٹوری مسلسل بار باردکھائی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہندستان ایک جمہوری ملک ہے اور اس میں سبھی کو اپنی بات کہنے کی آزادی حاصل ہے پھر بھی دفعہ ۔19(5) ایسی اشتعال انگیز اظہارِرائے آزادی پر مناسب پابندی عائد کرتی ہے جس سے سماج میں انتشار پیدا ہو اور پرامن بقائے باہمی کو نقصان پہنچے۔پروفیسربھیم سنگھ نے صدر پرنب مکھرجی پر زور دیا کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی کو مشورہ دیں کہ الیکٹرونک میڈیا پر اس طرح کی اشتعال انگیز اور معاشرہ میں انتشار پھیلانے والی خبروں کو نشر کرنے کی اجازت نہ دیں۔